Add To collaction

10-Apr-2022 غزل

زمانہ ہی نہیں بہتر ہے کیا کیا جائے

سفر میں ہوں نہیں رہبر ہے کیا کیا جائے

نہیں گزرتا ہے لمحہ بغیر اس کے اک
عجیب کرب کا منظر ہے کیا کیا جائے

بہت سنبھال کے رکھا ہے اس کو شمسی نے 
زمانے بھر سے وہ سندر ہے کیا کیا جائے

فیضان شمسی مرکزی

   8
3 Comments

Dr. SAGHEER AHMAD SIDDIQUI

11-Apr-2022 08:42 AM

Thanks

Reply

Simran Bhagat

11-Apr-2022 07:07 AM

Nice

Reply

MF SHAMSI MARKAZI

11-Apr-2022 09:13 AM

Thank you dear

Reply